کاروار ،18؍مارچ (ایس او نیوز) گزشتہ سال ستمبر میں ضلع اسپتال میں زچگی کے بعد نس بندی آپریشن کے دوران گیتا باناولی نامی خاتون کی جو موت واقع ہوئی تھی، اور گیتا کے گھر والوں کے علاوہ مقامی ماہی گیروں نے سرجن پر غفلت اور کوتا ہی کا الزام لگاتے ہوئے جو احتجاج کیا تھا اس کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔
آپریشن کے دوران گیتا کی موت کے بعد الزامات اور احتجاج کے بعد ایک طرف ضلع انتظامیہ نے اُس وقت کے ضلع پنچایت سی ای او محمد روشن کی قیادت میں تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی۔ دوسری طرف شہر کے پولیس تھانے میں ضلع سرجن ڈاکٹر شیوانند کوڈترکر کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔ تیسری طرف پوسٹ مارٹم کے علاوہ گیتا کے اندرونی اعضاء کے کچھ اجزاء منگلورو کی ریجنل فارنسک لیباریٹری میں جانچ کے لئے بھیجے گئے تھے۔
چونکہ اب تک اس معاملے میں کوئی قطعی بات سامنے نہیں آئی ہے اور تحقیقاتی رپورٹس بھی سامنے نہیں آئی ہیں اس لئے قصور وار ڈاکٹر کے خلاف سخت اقدام کرنے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے گیتا کے گھر والے اور علاقے کے ماہی گیر 15مارچ سے ضلع ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے میں جلد سے جلد کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو پھر بڑے پیمانے پر مسلسل احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔
اس دوران پتہ چلا ہے منگلورو کی ایف ایس ایل سے جانچ رپورٹ پولیس کو دستیاب ہوگئی ہے۔ ضلع سرجن کی رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ پہلے ہی سے پولیس کے پاس موجود ہے۔ البتہ ضلع سی ای او کی قیادت میں بنی کمیٹی نے جو رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو پیش کی تھی اسے اب تک پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔
سمجھا جاتا ہے کہ ایف ایس ایل کی رپورٹ چونکہ اب پولیس کو مل چکی ہے۔ اس لئے ضلع انتظامیہ کی رپورٹ حاصل کرتے ہوئے تمام رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد جلد ہی پولیس اس معاملے کو انجام تک پہنچائے گی اور زچہ کی موت کے اسباب پر کھل کر کوئی موقف اختیار کیا جائے گا۔